Posts

بوڑھے مالی کا باغ اور تین بیٹے

Image
کسی زمانے میں ایک گاؤں میں ایک بوڑھا مالی رہتا تھا۔ اس مالی کے پاس ایک بہت بڑا اور خوبصورت باغ تھا۔ اس باغ میں ہر قسم کے پھل دار درخت تھے، رنگ برنگے پھول تھے، اور ہر طرف خوشبو ہی خوشبو پھیلی رہتی تھی۔ بوڑھا مالی سارا دن اپنے باغ میں محنت کرتا، پودوں کو پانی دیتا، ان کی دیکھ بھال کرتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا۔ بوڑھے مالی کے تین بیٹے تھے۔ تینوں جوان، صحت مند اور طاقتور تھے، لیکن ان میں ایک بہت بڑی خامی تھی۔ وہ بہت سست تھے، کام چور تھے اور آپس میں ہر وقت لڑتے جھگڑتے رہتے تھے۔ ان میں اتفاق نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ بوڑھا باپ ان کی اس عادت سے بہت پریشان رہتا تھا۔ وہ اکثر سوچتا کہ میرے مرنے کے بعد ان کا کیا بنے گا؟ یہ باغ جو میں نے اتنی محنت سے بنایا ہے، یہ تو برباد ہو جائے گا۔ جب بوڑھے مالی کو لگا کہ اب اس کی زندگی کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں، تو اس نے اپنے تینوں بیٹوں کو اپنے پاس بلایا۔ اس نے کہا: "میرے پیارے بیٹو! میرے باغ میں ایک بہت بڑا خزانہ دفن ہے۔ میں نے اپنی ساری زندگی کی کمائی وہاں چھپا رکھی ہے۔ میرے مرنے کے بعد تم اس باغ کو کھود کر وہ خزانہ نکال لینا اور آپس میں بانٹ لینا۔" ی...

سست الو اور جادوئی کتاب کا راز

Image
ایک گھنے اور سرسبز جنگل میں بہت سے جانور ہنسی خوشی رہتے تھے۔ اسی جنگل کے ایک پرانے برگد کے درخت پر ایک الو رہتا تھا۔ یہ کوئی عام الو نہیں تھا، یہ بہت ہی سست تھا۔ سارا دن سوئے رہنا اور رات کو بھی بس ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی پر جانا، اس کا یہی کام تھا۔ جنگل کے باقی جانور جیسے چڑیا، گلہری، خرگوش سب دن رات محنت کرتے تھے، کوئی دانے جمع کرتا، کوئی اپنا گھر بناتا، لیکن یہ الو بس کہتا "کل کر لیں گے، کل کر لیں گے۔" ایک دن جنگل میں ایک عجیب بات ہوئی۔ آسمان سے ایک چمکتی ہوئی کتاب آہستہ آہستہ اڑتی ہوئی نیچے آئی اور سیدھا اسی برگد کے درخت کے نیچے گر گئی۔ سب جانور ڈر کر پیچھے ہٹ گئے۔ چھوٹی چڑیا نے ڈرتے ہوئے کہا، "یہ کیا چیز ہے؟" الو اپنی نیند سے جاگا، اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اس کتاب کو دیکھا۔ وہ کتاب سونے کی طرح چمک رہی تھی۔ اس کے اوپر لکھا تھا "جادوئی کتاب - جو محنت کرے گا وہی اسے کھول سکے گا۔" الو نے سستی سے کہا، "ارے یہ تو کوئی عام کتاب ہوگی، رہنے دو۔" لیکن ننھا خرگوش آگے بڑھا، اس نے کتاب کو کھولنے کی کوشش کی، لیکن کتاب نہ کھلی۔ پھر گلہری آئی، اس نے بھی ...

ایماندار لکڑہارا اور جادوئی شہد کا چھتہ

Image
پرانے زمانے کی بات ہے، ایک گاؤں میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا، جس کا نام رحمت تھا۔ وہ بہت ہی ایماندار اور محنتی تھا۔ ہر روز وہ صبح سویرے جنگل جاتا، لکڑیاں کاٹتا اور شام کو بازار میں بیچ کر اپنے بچوں کے لیے روٹی لاتا۔ ایک دن کی بات ہے، جنگل میں بہت تیز طوفان آیا۔ رحمت ایک بڑے درخت کے نیچے چھپ گیا۔ جب طوفان ختم ہوا تو اس نے دیکھا کہ اسی درخت پر شہد کا ایک بہت بڑا چھتہ لگا ہوا ہے، جس سے سارا شہد زمین پر ٹپک رہا ہے اور درخت کے تنے میں سونا چمک رہا ہے۔ رحمت حیران رہ گیا۔ اس نے دل میں سوچا کہ اگر میں یہ سارا شہد اور سونا لے جاؤں تو میری غربت ختم ہو جائے گی۔ لیکن پھر اس کے دل میں ایمانداری کا خیال آیا۔ اس نے سوچا کہ یہ جنگل کا خزانہ ہے، یہ میرا نہیں ہے۔ اتنے میں اس درخت سے ایک آواز آئی۔ وہ جنگل کا محافظ جن تھا۔ جن نے کہا، "اے انسان، میں نے تمہارا دل دیکھ لیا ہے۔ تمہارے دل میں لالچ نہیں آیا۔ تم چاہتے تو سارا سونا لے جا سکتے تھے، لیکن تم نے ایمانداری دکھائی۔" جن نے خوش ہو کر کہا، "اس لیے میں تمہیں انعام دیتا ہوں۔ یہ شہد کا چھتہ جادوئی ہے۔ اس میں سے کبھی شہد ختم نہیں ہوگا۔ تم روز ...

ایک چڑیا جس نے اپنا گھونسلا قربان کر دیا

Image
سردیوں کا سخت موسم تھا۔ جنگل میں ہر طرف برف کی چادر بچھنے والی تھی۔ اسی جنگل کے ایک بڑے درخت پر ایک چھوٹی سی چڑیا اپنے دو معصوم بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ اس چڑیا نے بڑی محنت سے، ایک ایک تنکا جوڑ کر ایک گرم اور خوبصورت گھونسلا بنایا تھا۔ وہ گھونسلا اس کا گھر ہی نہیں، اس کی ساری دنیا تھا۔ ایک دن اچانک جنگل میں کالا بادل چھا گیا۔ تیز ہوائیں چلنے لگیں اور زوردار بارش شروع ہو گئی۔ چڑیا اپنے بچوں کو پروں میں چھپا کر گھونسلے میں بیٹھی تھی۔ اچانک نیچے سے کسی کے رونے کی آواز آئی۔ چڑیا نے نیچے دیکھا تو ایک چھوٹا سا غریب بچہ، جس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، ایک پتھر کے پاس بیٹھا بارش میں بھیگ رہا تھا اور سردی سے ٹھٹھر رہا تھا۔ چڑیا نے اپنے بچوں کو دیکھا، پھر اس معصوم بچے کو دیکھا۔ اس کا دل بھر آیا۔ پھر اس نے وہ کام کیا جسے سن کر ہر آنکھ میں آنسو آ جاتے ہیں۔ اس نے اپنی چونچ سے اپنا ہی بنایا ہوا خوبصورت گھونسلا توڑنا شروع کر دیا اور ایک ایک تنکا نیچے اس بچے پر ڈالنے لگی، تاکہ اس کے لیے ایک چھوٹی سی چھت بن جائے۔ تھوڑی دیر میں چڑیا کا سارا گھونسلا ختم ہو گیا، لیکن نیچے اس بچے کے اوپر تنکوں کی ایک چھوٹی چھت بن...

غریب بچہ اور سونے کا پرندہ

Image
ایک گاؤں میں ایک بہت غریب بچہ رہتا تھا جس کا نام احمد تھا۔ وہ روز لکڑیاں بیچ کر اپنی ماں کا پیٹ پالتا تھا۔ ایک دن جنگل میں اسے ایک زخمی سنہرا پرندہ ملا۔ اس کے پر چمک رہے تھے۔ احمد نے اسے اٹھایا، اپنے گھر لایا، اور اپنی روٹی کے ٹکڑے اسے کھلائے۔ ماں بولی بیٹا ہم خود بھوکے ہیں۔ احمد بولا اماں جان، بے زبان کی مدد کرنی چاہیے۔ تین دن بعد جب پرندہ ٹھیک ہو گیا تو وہ اڑنے لگا۔ جاتے جاتے اس نے اپنی چونچ سے ایک سنہرا بیج احمد کے آنگن میں گرا دیا۔ احمد نے وہ بیج زمین میں لگا دیا۔ اگلی صبح کیا دیکھتا ہے کہ وہاں سونے کا ایک چھوٹا سا درخت اگ آیا ہے! جس پر سونے کے سکے لگے ہوئے تھے! احمد امیر ہو گیا، لیکن اس نے گھمنڈ نہیں کیا۔ اس نے گاؤں کے سب غریبوں کی مدد کی۔ *سبق: نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی، اللہ اس کا صلہ ضرور دیتا ہے۔* The Poor Boy and the Golden Bird There was a very poor boy living in a village whose name was Ahmed. He used to sell wood daily to feed his mother. One day in the jungle, he found an injured golden bird. Its feathers were shining. Ahmed picked it up, brought it to his home, and fed it...

چائے والی آنٹی

Image
سردیوں کی ایک شام تھی، علی آفس سے تھکا ہارا واپس آ رہا تھا۔ راستے میں اس نے دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت چھوٹے سے چولہے پر چائے بنا رہی ہے۔ کوئی گاہک نہیں تھا۔ علی کو ترس آیا، وہ پاس گیا اور بولا، "آنٹی، ایک کپ چائے دے دیں۔" آنٹی نے مسکرا کر چائے دی۔ چائے بہت مزیدار تھی۔ علی نے پوچھا، "آنٹی، اس سردی میں آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟ آپ کے بچے کہاں ہیں؟" آنٹی ہنس کر بولی، "بیٹا، میرا ایک ہی بیٹا تھا، وہ باہر ملک چلا گیا ہے۔ اب میں اکیلی ہوں۔ گھر بیٹھ کر دل گھبراتا ہے، اس لیے یہاں چائے بیچتی ہوں، لوگوں سے بات ہو جاتی ہے، وقت گزر جاتا ہے۔" علی کو بہت دکھ ہوا۔ اس دن کے بعد علی روز آنٹی کی چائے پینے لگا۔ کبھی کبھی اپنے دوستوں کو بھی لے آتا۔ آہستہ آہستہ آنٹی کی دکان چلنے لگی۔ ایک دن علی نے دیکھا آنٹی بہت خوش تھی۔ بولی، "بیٹا، تمہاری وجہ سے آج میں نے اتنے پیسے کمائے کہ اپنے بیٹے کے لیے سویٹر خرید لوں گی۔" علی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اسے سمجھ آیا کہ کبھی کبھی ایک کپ چائے بھی کسی کی زندگی میں خوشی لا سکتی ہے۔ *سبق: چھوٹی سی نیکی بھی کسی کے لیے بہت بڑی خوشی بن سکتی...

دو بلیاں اور چالاک بندر

Image
ایک گاؤں میں دو بلیاں رہتی تھیں، وہ دونوں بہت اچھی دوست تھیں۔ ایک دن انہیں کہیں سے روٹی کا ایک ٹکڑا ملا۔ دونوں بلیاں اس روٹی کو آپس میں بانٹنے لگیں۔ ایک بلی بولی مجھے بڑا حصہ چاہیے، دوسری بلی بولی نہیں بڑا حصہ میرا ہے۔ دونوں میں لڑائی ہونے لگی۔ قریب ہی ایک درخت پر ایک چالاک بندر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس کے ذہن میں ایک چال آئی۔ وہ نیچے آیا اور بولا ارے بلی بہنو، کیوں لڑ رہی ہو؟ لاؤ میں تمہاری روٹی برابر بانٹ دیتا ہوں، میرے پاس ترازو ہے۔ دونوں بلیاں مان گئیں۔ بندر نے روٹی کے دو ٹکڑے کیے اور ترازو میں رکھ دیے۔ ایک ٹکڑا جان بوجھ کر بڑا رکھا۔ بولا اوہ یہ والا پلڑا بھاری ہے اور اس میں سے تھوڑا سا توڑ کر خود کھا گیا۔ پھر دوسرا پلڑا بھاری ہو گیا۔ پھر اس میں سے تھوڑا توڑ کر کھا گیا۔ وہ بار بار ایسا کرتا رہا اور روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے خود کھاتا رہا۔ آخر میں ترازو میں صرف دو بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے رہ گئے۔ دونوں بلیوں نے کہا بس کرو، اب ہم یہی بانٹ لیں گے۔ بندر ہنس کر بولا ارے یہ دو ٹکڑے تو میری مزدوری کے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ دونوں ٹکڑے بھی کھا گیا اور بھاگ گیا۔ دونوں بلیاں اپنا منہ دیکھتی رہ گئیں...