بوڑھے مالی کا باغ اور تین بیٹے
کسی زمانے میں ایک گاؤں میں ایک بوڑھا مالی رہتا تھا۔ اس مالی کے پاس ایک بہت بڑا اور خوبصورت باغ تھا۔ اس باغ میں ہر قسم کے پھل دار درخت تھے، رنگ برنگے پھول تھے، اور ہر طرف خوشبو ہی خوشبو پھیلی رہتی تھی۔ بوڑھا مالی سارا دن اپنے باغ میں محنت کرتا، پودوں کو پانی دیتا، ان کی دیکھ بھال کرتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا۔ بوڑھے مالی کے تین بیٹے تھے۔ تینوں جوان، صحت مند اور طاقتور تھے، لیکن ان میں ایک بہت بڑی خامی تھی۔ وہ بہت سست تھے، کام چور تھے اور آپس میں ہر وقت لڑتے جھگڑتے رہتے تھے۔ ان میں اتفاق نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ بوڑھا باپ ان کی اس عادت سے بہت پریشان رہتا تھا۔ وہ اکثر سوچتا کہ میرے مرنے کے بعد ان کا کیا بنے گا؟ یہ باغ جو میں نے اتنی محنت سے بنایا ہے، یہ تو برباد ہو جائے گا۔ جب بوڑھے مالی کو لگا کہ اب اس کی زندگی کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں، تو اس نے اپنے تینوں بیٹوں کو اپنے پاس بلایا۔ اس نے کہا: "میرے پیارے بیٹو! میرے باغ میں ایک بہت بڑا خزانہ دفن ہے۔ میں نے اپنی ساری زندگی کی کمائی وہاں چھپا رکھی ہے۔ میرے مرنے کے بعد تم اس باغ کو کھود کر وہ خزانہ نکال لینا اور آپس میں بانٹ لینا۔" ی...