Posts

Showing posts from October, 2026

بوڑھے مالی کا باغ اور تین بیٹے

Image
کسی زمانے میں ایک گاؤں میں ایک بوڑھا مالی رہتا تھا۔ اس مالی کے پاس ایک بہت بڑا اور خوبصورت باغ تھا۔ اس باغ میں ہر قسم کے پھل دار درخت تھے، رنگ برنگے پھول تھے، اور ہر طرف خوشبو ہی خوشبو پھیلی رہتی تھی۔ بوڑھا مالی سارا دن اپنے باغ میں محنت کرتا، پودوں کو پانی دیتا، ان کی دیکھ بھال کرتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا۔ بوڑھے مالی کے تین بیٹے تھے۔ تینوں جوان، صحت مند اور طاقتور تھے، لیکن ان میں ایک بہت بڑی خامی تھی۔ وہ بہت سست تھے، کام چور تھے اور آپس میں ہر وقت لڑتے جھگڑتے رہتے تھے۔ ان میں اتفاق نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ بوڑھا باپ ان کی اس عادت سے بہت پریشان رہتا تھا۔ وہ اکثر سوچتا کہ میرے مرنے کے بعد ان کا کیا بنے گا؟ یہ باغ جو میں نے اتنی محنت سے بنایا ہے، یہ تو برباد ہو جائے گا۔ جب بوڑھے مالی کو لگا کہ اب اس کی زندگی کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں، تو اس نے اپنے تینوں بیٹوں کو اپنے پاس بلایا۔ اس نے کہا: "میرے پیارے بیٹو! میرے باغ میں ایک بہت بڑا خزانہ دفن ہے۔ میں نے اپنی ساری زندگی کی کمائی وہاں چھپا رکھی ہے۔ میرے مرنے کے بعد تم اس باغ کو کھود کر وہ خزانہ نکال لینا اور آپس میں بانٹ لینا۔" ی...

سست الو اور جادوئی کتاب کا راز

Image
ایک گھنے اور سرسبز جنگل میں بہت سے جانور ہنسی خوشی رہتے تھے۔ اسی جنگل کے ایک پرانے برگد کے درخت پر ایک الو رہتا تھا۔ یہ کوئی عام الو نہیں تھا، یہ بہت ہی سست تھا۔ سارا دن سوئے رہنا اور رات کو بھی بس ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی پر جانا، اس کا یہی کام تھا۔ جنگل کے باقی جانور جیسے چڑیا، گلہری، خرگوش سب دن رات محنت کرتے تھے، کوئی دانے جمع کرتا، کوئی اپنا گھر بناتا، لیکن یہ الو بس کہتا "کل کر لیں گے، کل کر لیں گے۔" ایک دن جنگل میں ایک عجیب بات ہوئی۔ آسمان سے ایک چمکتی ہوئی کتاب آہستہ آہستہ اڑتی ہوئی نیچے آئی اور سیدھا اسی برگد کے درخت کے نیچے گر گئی۔ سب جانور ڈر کر پیچھے ہٹ گئے۔ چھوٹی چڑیا نے ڈرتے ہوئے کہا، "یہ کیا چیز ہے؟" الو اپنی نیند سے جاگا، اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اس کتاب کو دیکھا۔ وہ کتاب سونے کی طرح چمک رہی تھی۔ اس کے اوپر لکھا تھا "جادوئی کتاب - جو محنت کرے گا وہی اسے کھول سکے گا۔" الو نے سستی سے کہا، "ارے یہ تو کوئی عام کتاب ہوگی، رہنے دو۔" لیکن ننھا خرگوش آگے بڑھا، اس نے کتاب کو کھولنے کی کوشش کی، لیکن کتاب نہ کھلی۔ پھر گلہری آئی، اس نے بھی ...

ایماندار لکڑہارا اور جادوئی شہد کا چھتہ

Image
پرانے زمانے کی بات ہے، ایک گاؤں میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا، جس کا نام رحمت تھا۔ وہ بہت ہی ایماندار اور محنتی تھا۔ ہر روز وہ صبح سویرے جنگل جاتا، لکڑیاں کاٹتا اور شام کو بازار میں بیچ کر اپنے بچوں کے لیے روٹی لاتا۔ ایک دن کی بات ہے، جنگل میں بہت تیز طوفان آیا۔ رحمت ایک بڑے درخت کے نیچے چھپ گیا۔ جب طوفان ختم ہوا تو اس نے دیکھا کہ اسی درخت پر شہد کا ایک بہت بڑا چھتہ لگا ہوا ہے، جس سے سارا شہد زمین پر ٹپک رہا ہے اور درخت کے تنے میں سونا چمک رہا ہے۔ رحمت حیران رہ گیا۔ اس نے دل میں سوچا کہ اگر میں یہ سارا شہد اور سونا لے جاؤں تو میری غربت ختم ہو جائے گی۔ لیکن پھر اس کے دل میں ایمانداری کا خیال آیا۔ اس نے سوچا کہ یہ جنگل کا خزانہ ہے، یہ میرا نہیں ہے۔ اتنے میں اس درخت سے ایک آواز آئی۔ وہ جنگل کا محافظ جن تھا۔ جن نے کہا، "اے انسان، میں نے تمہارا دل دیکھ لیا ہے۔ تمہارے دل میں لالچ نہیں آیا۔ تم چاہتے تو سارا سونا لے جا سکتے تھے، لیکن تم نے ایمانداری دکھائی۔" جن نے خوش ہو کر کہا، "اس لیے میں تمہیں انعام دیتا ہوں۔ یہ شہد کا چھتہ جادوئی ہے۔ اس میں سے کبھی شہد ختم نہیں ہوگا۔ تم روز ...

ایک چڑیا جس نے اپنا گھونسلا قربان کر دیا

Image
سردیوں کا سخت موسم تھا۔ جنگل میں ہر طرف برف کی چادر بچھنے والی تھی۔ اسی جنگل کے ایک بڑے درخت پر ایک چھوٹی سی چڑیا اپنے دو معصوم بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ اس چڑیا نے بڑی محنت سے، ایک ایک تنکا جوڑ کر ایک گرم اور خوبصورت گھونسلا بنایا تھا۔ وہ گھونسلا اس کا گھر ہی نہیں، اس کی ساری دنیا تھا۔ ایک دن اچانک جنگل میں کالا بادل چھا گیا۔ تیز ہوائیں چلنے لگیں اور زوردار بارش شروع ہو گئی۔ چڑیا اپنے بچوں کو پروں میں چھپا کر گھونسلے میں بیٹھی تھی۔ اچانک نیچے سے کسی کے رونے کی آواز آئی۔ چڑیا نے نیچے دیکھا تو ایک چھوٹا سا غریب بچہ، جس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، ایک پتھر کے پاس بیٹھا بارش میں بھیگ رہا تھا اور سردی سے ٹھٹھر رہا تھا۔ چڑیا نے اپنے بچوں کو دیکھا، پھر اس معصوم بچے کو دیکھا۔ اس کا دل بھر آیا۔ پھر اس نے وہ کام کیا جسے سن کر ہر آنکھ میں آنسو آ جاتے ہیں۔ اس نے اپنی چونچ سے اپنا ہی بنایا ہوا خوبصورت گھونسلا توڑنا شروع کر دیا اور ایک ایک تنکا نیچے اس بچے پر ڈالنے لگی، تاکہ اس کے لیے ایک چھوٹی سی چھت بن جائے۔ تھوڑی دیر میں چڑیا کا سارا گھونسلا ختم ہو گیا، لیکن نیچے اس بچے کے اوپر تنکوں کی ایک چھوٹی چھت بن...

غریب بچہ اور سونے کا پرندہ

Image
ایک گاؤں میں ایک بہت غریب بچہ رہتا تھا جس کا نام احمد تھا۔ وہ روز لکڑیاں بیچ کر اپنی ماں کا پیٹ پالتا تھا۔ ایک دن جنگل میں اسے ایک زخمی سنہرا پرندہ ملا۔ اس کے پر چمک رہے تھے۔ احمد نے اسے اٹھایا، اپنے گھر لایا، اور اپنی روٹی کے ٹکڑے اسے کھلائے۔ ماں بولی بیٹا ہم خود بھوکے ہیں۔ احمد بولا اماں جان، بے زبان کی مدد کرنی چاہیے۔ تین دن بعد جب پرندہ ٹھیک ہو گیا تو وہ اڑنے لگا۔ جاتے جاتے اس نے اپنی چونچ سے ایک سنہرا بیج احمد کے آنگن میں گرا دیا۔ احمد نے وہ بیج زمین میں لگا دیا۔ اگلی صبح کیا دیکھتا ہے کہ وہاں سونے کا ایک چھوٹا سا درخت اگ آیا ہے! جس پر سونے کے سکے لگے ہوئے تھے! احمد امیر ہو گیا، لیکن اس نے گھمنڈ نہیں کیا۔ اس نے گاؤں کے سب غریبوں کی مدد کی۔ *سبق: نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی، اللہ اس کا صلہ ضرور دیتا ہے۔* The Poor Boy and the Golden Bird There was a very poor boy living in a village whose name was Ahmed. He used to sell wood daily to feed his mother. One day in the jungle, he found an injured golden bird. Its feathers were shining. Ahmed picked it up, brought it to his home, and fed it...

چائے والی آنٹی

Image
سردیوں کی ایک شام تھی، علی آفس سے تھکا ہارا واپس آ رہا تھا۔ راستے میں اس نے دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت چھوٹے سے چولہے پر چائے بنا رہی ہے۔ کوئی گاہک نہیں تھا۔ علی کو ترس آیا، وہ پاس گیا اور بولا، "آنٹی، ایک کپ چائے دے دیں۔" آنٹی نے مسکرا کر چائے دی۔ چائے بہت مزیدار تھی۔ علی نے پوچھا، "آنٹی، اس سردی میں آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟ آپ کے بچے کہاں ہیں؟" آنٹی ہنس کر بولی، "بیٹا، میرا ایک ہی بیٹا تھا، وہ باہر ملک چلا گیا ہے۔ اب میں اکیلی ہوں۔ گھر بیٹھ کر دل گھبراتا ہے، اس لیے یہاں چائے بیچتی ہوں، لوگوں سے بات ہو جاتی ہے، وقت گزر جاتا ہے۔" علی کو بہت دکھ ہوا۔ اس دن کے بعد علی روز آنٹی کی چائے پینے لگا۔ کبھی کبھی اپنے دوستوں کو بھی لے آتا۔ آہستہ آہستہ آنٹی کی دکان چلنے لگی۔ ایک دن علی نے دیکھا آنٹی بہت خوش تھی۔ بولی، "بیٹا، تمہاری وجہ سے آج میں نے اتنے پیسے کمائے کہ اپنے بیٹے کے لیے سویٹر خرید لوں گی۔" علی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اسے سمجھ آیا کہ کبھی کبھی ایک کپ چائے بھی کسی کی زندگی میں خوشی لا سکتی ہے۔ *سبق: چھوٹی سی نیکی بھی کسی کے لیے بہت بڑی خوشی بن سکتی...

دو بلیاں اور چالاک بندر

Image
ایک گاؤں میں دو بلیاں رہتی تھیں، وہ دونوں بہت اچھی دوست تھیں۔ ایک دن انہیں کہیں سے روٹی کا ایک ٹکڑا ملا۔ دونوں بلیاں اس روٹی کو آپس میں بانٹنے لگیں۔ ایک بلی بولی مجھے بڑا حصہ چاہیے، دوسری بلی بولی نہیں بڑا حصہ میرا ہے۔ دونوں میں لڑائی ہونے لگی۔ قریب ہی ایک درخت پر ایک چالاک بندر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس کے ذہن میں ایک چال آئی۔ وہ نیچے آیا اور بولا ارے بلی بہنو، کیوں لڑ رہی ہو؟ لاؤ میں تمہاری روٹی برابر بانٹ دیتا ہوں، میرے پاس ترازو ہے۔ دونوں بلیاں مان گئیں۔ بندر نے روٹی کے دو ٹکڑے کیے اور ترازو میں رکھ دیے۔ ایک ٹکڑا جان بوجھ کر بڑا رکھا۔ بولا اوہ یہ والا پلڑا بھاری ہے اور اس میں سے تھوڑا سا توڑ کر خود کھا گیا۔ پھر دوسرا پلڑا بھاری ہو گیا۔ پھر اس میں سے تھوڑا توڑ کر کھا گیا۔ وہ بار بار ایسا کرتا رہا اور روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے خود کھاتا رہا۔ آخر میں ترازو میں صرف دو بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے رہ گئے۔ دونوں بلیوں نے کہا بس کرو، اب ہم یہی بانٹ لیں گے۔ بندر ہنس کر بولا ارے یہ دو ٹکڑے تو میری مزدوری کے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ دونوں ٹکڑے بھی کھا گیا اور بھاگ گیا۔ دونوں بلیاں اپنا منہ دیکھتی رہ گئیں...

لالچی دکاندار اور بولنے والا طوطا

Image
ایک گاؤں میں ایک بہت لالچی دکاندار رہتا تھا۔ وہ ہر چیز مہنگی بیچتا اور لوگوں کو دھوکہ دیتا تھا۔ ایک دن اس کی دکان پر ایک درویش آیا۔ درویش کے پاس ایک پنجرے میں ایک بہت خوبصورت طوطا تھا۔ درویش نے کہا، "یہ کوئی عام طوطا نہیں، یہ سچ بولتا ہے۔ جو بھی اس کے سامنے جھوٹ بولے گا، یہ سب کو بتا دے گا۔" لالچی دکاندار نے طوطا خرید لیا اور دکان کے باہر لٹکا دیا۔ ایک گاہک نے پوچھا، "بھائی یہ چینی خالص ہے؟" دکاندار نے جھوٹ بولا، "ہاں ہاں، بالکل خالص ہے!" فوراً طوطا چلایا، "جھوٹ! جھوٹ! اس میں ریت ملی ہے!" دوسرا گاہک آیا، "گھی اصلی ہے؟" دکاندار بولا، "اصلی ہے!" طوطا پھر بولا، "جھوٹ! یہ تو دو نمبر گھی ہے!" سارا دن ایسا ہی ہوتا رہا۔ شام تک دکاندار کی ایک چیز بھی نہ بکی۔ طوطا بولا، "میں نے تمہارا کاروبار خراب نہیں کیا، تمہارے جھوٹ نے کیا ہے۔ آج سے سچ بولنا شروع کر دو۔" دکاندار کو بات سمجھ آ گئی۔ اگلے دن سے اس نے سچ بولنا شروع کر دیا۔ لوگوں کو اس کی سچائی بہت پسند آئی اور وہ گاؤں کا سب سے امیر اور عزت دار دکاندار بن گیا۔ *سبق: س...

سست لڑکے اور جادوئی قلم کی کہانی

Image
کسی گاؤں میں علی نام کا ایک بہت سست لڑکا رہتا تھا۔ وہ نہ اسکول کا کام کرتا، نہ امی ابو کا کہنا مانتا۔ سارا دن بس سوتا رہتا۔ ایک دن اسے راستے میں ایک بوڑھا آدمی ملا۔ بوڑھے نے اسے ایک قلم دیا اور کہا، "یہ جادوئی قلم ہے۔ یہ تمہارا سارا کام خود کر دے گا۔" علی بہت خوش ہوا۔ اب وہ قلم سے کہتا، "قلم، میرا ہوم ورک کر دو"، اور قلم خود لکھنے لگتا۔ "قلم، میرے کپڑے صاف کر دو۔" کچھ دن تک تو مزے رہے، لیکن آہستہ آہستہ قلم نے اس کا لکھنا بھلا دیا، اس کے ہاتھ کمزور ہو گئے۔ ایک دن اسکول میں ٹیچر نے سب کو اپنے ہاتھ سے مضمون لکھنے کو کہا۔ سب بچے لکھنے لگے، لیکن علی سے ایک لفظ بھی نہ لکھا گیا۔ اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ وہ بہت شرمندہ ہوا۔ وہ بھاگا بھاگا بوڑھے کے پاس گیا اور بولا، "بابا جی یہ قلم واپس لے لیں، مجھے محنتی بننا ہے۔" بوڑھے نے مسکرا کر کہا، "بیٹا، اصل جادو قلم میں نہیں، تمہارے ہاتھوں میں ہے۔ محنت ہی سب سے بڑا جادو ہے۔" اس دن کے بعد علی نے سستی چھوڑ دی اور گاؤں کا سب سے محنتی بچہ بن گیا۔ سبق: محنت میں ہی عظمت ہے، سستی انسان کو کمزور بنا دیتی ہے۔  The...

سچا دوست اور جادوئی بیج

Image
ایک گاؤں میں دو دوست رہتے تھے، علی اور سعد۔ علی بہت محنتی تھا اور سعد بہت سست۔ ایک دن ایک بوڑھا فقیر گاؤں میں آیا اور دونوں کو ایک ایک بیج دیا۔ فقیر نے کہا: "یہ جادوئی بیج ہے، جو سچے دل سے محنت کرے گا اس کا بیج ایک رات میں درخت بن جائے گا۔" سعد نے بیج کو لے جا کر الماری میں رکھ دیا اور سوچا، "کل بو دوں گا۔" اور وہ سو گیا۔ لیکن علی نے اسی وقت زمین کھودی، پانی دیا، اور ساری رات اس کی رکھوالی کی۔ صبح جب سورج نکلا تو سب حیران رہ گئے! علی کے بیج سے ایک بڑا درخت بن گیا تھا جس پر سونے کے سیب لگے ہوئے تھے، اور سعد کے بیج سے صرف گھاس نکلی تھی۔ فقیر واپس آیا اور کہا: "بیٹا! جادو بیج میں نہیں، تمہاری محنت میں تھا۔" *سبق:* محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ True Friend and the Magic Seed In a village, there lived two friends, Ali and Saad. Ali was very hardworking and Saad was very lazy. One day, an old holy man came to the village and gave each of them a seed. The holy man said: "This is a magic seed. The one who works with a true heart, his seed will become a tree in...

ماں کے ہاتھ کی روٹی

Image
ایک چھوٹا بچہ تھا جس کا نام احمد تھا۔ احمد کو اپنی ماں کے ہاتھ کی روٹی بالکل پسند نہیں تھی۔ وہ روز کہتا، امی روٹی جل گئی ہے، امی روٹی چھوٹی ہے۔ ایک دن وہ غصے میں روٹی چھوڑ کر سکول چلا گیا۔ سکول میں اس کے دوست کے پاس برگر تھا۔ احمد نے سوچا کاش میری ماں بھی مجھے برگر دے۔ شام کو جب وہ گھر آیا تو دیکھا، اس کی ماں بیمار ہے، پھر بھی چولہے کے پاس بیٹھی اس کے لیے روٹی بنا رہی ہے۔ ماں نے کہا، بیٹا آج روٹی تھوڑی دیر سے بنے گی، ہاتھ جل رہا ہے۔ احمد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ دوڑ کر ماں کے گلے لگ گیا اور بولا، امی مجھے آپ کے ہاتھ کی یہی جلی ہوئی روٹی سب سے زیادہ پیاری ہے۔ اس دن کے بعد احمد نے کبھی بھی کھانے میں نقص نہیں نکالا۔ *سبق:* ماں کے ہاتھ کے کھانے کی قدر کرو، یہ دنیا کی سب  سے بڑی نعمت ہے۔  Maa Ke Haath Ki Roti - A True Inspirational Story There was a little boy named Ahmed. Ahmed did not like the roti made by his mother's hands at all. Every day he would say, "Mama the roti is burnt, Mama the roti is too small." One day, he left the roti in anger and went to school. At scho...

لالچی تاجر اور سونے کا گھڑا

Image
ایک گاؤں میں ایک بہت لالچی تاجر رہتا تھا۔ اس کے پاس بہت دولت تھی لیکن پھر بھی اس کا دل نہیں بھرتا تھا۔ ایک دن وہ جنگل سے گزر رہا تھا تو اسے ایک پرانا گھڑا ملا۔ اس نے گھڑا کھولا تو اندر سونے کے سکے تھے۔ تاجر بہت خوش ہوا۔ وہ گھڑا لے کر گھر جانے لگا تو راستے میں اسے خیال آیا کہ اس گھڑے میں کہیں اور بھی خزانہ ہوگا۔ وہ واپس اسی جگہ گیا اور زمین کھودنے لگا۔ سارا دن کھودتا رہا لیکن کچھ نہ ملا۔ جب وہ تھک ہار کر واپس آیا تو دیکھا کہ اس کا سونے کا گھڑا وہاں نہیں تھا۔ ایک چور اسے لے گیا تھا۔ تاجر رونے لگا۔ اگر وہ اسی ایک گھڑے پر شکر کر لیتا تو آج امیر ہوتا، لیکن لالچ کی وجہ سے اس نے سب کچھ کھو دیا ۔--- English Version --- Once there was a very greedy trader in a village. He had a lot of wealth but he was never satisfied. One day he was passing through a jungle and found an old pot. When he opened it, it was full of gold coins. He became very happy. On his way home, he thought that there might be more treasure at that place. So he hid that pot there and went back to dig more. He kept digging the w...

سست طوطا اور محنتی چیونٹی

Image
ایک جنگل میں ایک چھوٹا سا طوطا رہتا تھا۔ وہ بہت سست تھا، سارا دن سوچتا رہتا کہ کاش کوئی اسے دانہ لا کر دے دے۔ اسی جنگل میں ایک چھوٹی سی چیونٹی بھی رہتی تھی، وہ بہت محنتی تھی۔ وہ روز صبح سویرے اٹھتی، دانہ جمع کرتی اور اپنے گھر میں رکھتی۔ ایک دن سردیوں کا موسم آ گیا۔ طوطے کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ وہ بھوکا رہنے لگا۔ وہ چیونٹی کے پاس گیا اور بولا، بہن مجھے تھوڑا سا دانہ دے دو۔ چیونٹی نے کہا، اگر تم گرمیوں میں محنت کرتے تو آج بھوکے نہ رہتے۔ لیکن تم میرے دوست ہو، اس لیے آدھا دانہ لے لو، اور وعدہ کرو کہ آئندہ محنت کرو گے۔ طوطے نے وعدہ کیا کہ وہ کبھی سستی نہیں کرے گا۔ *سبق: محنت میں ہی برکت ہے۔*

دو دوست اور ریچھ

Image
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو دوست کسی جنگل سے گزر رہے تھے۔ اچانک سامنے سے ایک بڑا ریچھ آ گیا۔ ایک دوست کو درخت پر چڑھنا آتا تھا، وہ جلدی سے درخت پر چڑھ گیا۔ دوسرا دوست بیچارہ نیچے ہی رہ گیا۔ اسے درخت پر چڑھنا نہیں آتا تھا۔ اس نے عقل سے کام لیا اور زمین پر لیٹ کر سانس روک لی اور مردہ بن گیا۔ کہتے ہیں ریچھ مردہ کو نہیں کھاتا۔ ریچھ اس کے پاس آیا، اسے سونگھا، مردہ سمجھ کر چھوڑ کر چلا گیا۔ جب ریچھ چلا گیا تو درخت والا دوست نیچے اترا اور ہنستے ہوئے پوچھا، "ریچھ تمہارے کان میں کیا کہہ رہا تھا؟" زمین پر لیٹے ہوئے دوست نے کہا، "ریچھ کہہ رہا تھا کہ مصیبت کے وقت ساتھ چھوڑنے والے دوست سے ہمیشہ بچ کر رہنا۔" دوسرا دوست بہت شرمندہ ہوا۔ *سبق:* سچا دوست وہی ہے جو مشکل وقت میں کام آئے۔

مغرور ہرن کا انجام

Image
ایک جنگل میں ایک بہت خوبصورت ہرن رہتا تھا۔ اس کو اپنے سینگوں پر بہت غرور تھا۔ ایک دن جنگل میں آگ لگ گئی۔ سب جانور بھاگ رہے تھے۔ ہرن بھی بھاگا لیکن اس کے لمبے سینگ جھاڑیوں میں الجھ گئے۔ وہ نکل نہ سکا۔ اتنے میں ایک چھوٹی سی چوہیا آئی اور اس نے اپنے دانتوں سے جھاڑیاں کاٹ کر ہرن کو آزاد کرا دیا۔ ہرن کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ *سبق: غرور کا سر نیچا ہوتا ہے۔*

*لالچی دکاندار اور ایماندار لڑکا*

Image
ایک گاؤں میں مٹھائی کی ایک دکان تھی۔ دکاندار بہت لالچی تھا۔ ایک دن ایک چھوٹا لڑکا علی اپنی ماں کے لیے 50 روپے کی مٹھائی لینے آیا۔ دکاندار نے لالچ میں آ کر آدھا کلو کی جگہ 300 گرام مٹھائی دے دی۔ گھر جا کر جب ماں نے تولا تو مٹھائی کم نکلی۔ علی واپس دکان پر گیا اور بولا، چچا مٹھائی کم ہے۔ دکاندار نے ڈانٹ کر بھگا دیا۔ وہاں کھڑے ایک بزرگ نے یہ سب دیکھ لیا اور کہا، کیوں بچے کے ساتھ بے ایمانی کرتے ہو؟ میں نے دیکھا ہے تم نے کم دیا ہے۔ دکاندار شرمندہ ہو گیا اور اس نے پوری مٹھائی دے دی۔ کچھ دن بعد اس دکاندار کی دکان پر کوئی بھی نہیں آتا تھا کیونکہ سب کو اس کی بے ایمانی کا پتہ چل گیا تھا۔ *سبق: بے ایمانی کا پیسہ کبھی نہیں ٹکتا، ایمانداری کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔*

ٹوپیاں بیچنے والا اور بندر - ایک سبق آموز کہانی

Image
ایک گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا جو ٹوپیاں بیچا کرتا تھا۔ اس کے پاس رنگ برنگی خوبصورت ٹوپیوں کی ایک ٹوکری تھی۔ ایک دن وہ ٹوپیاں بیچنے دوسرے گاؤں جا رہا تھا۔ راستے میں گرمی بہت تھی اور وہ تھک گیا۔ اس نے سوچا تھوڑی دیر آرام کر لوں۔ وہ ایک بڑے درخت کے نیچے اپنی ٹوپیوں کی ٹوکری رکھ کر سو گیا۔ اس درخت پر بہت سے بندر رہتے تھے۔ جب بندروں نے رنگ برنگی ٹوپیاں دیکھیں تو وہ نیچے اترے اور ٹوکری سے ساری ٹوپیاں نکال کر پہن لیں اور واپس درخت پر چڑھ گئے۔ جب ٹوپیاں بیچنے والے کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ ٹوکری خالی ہے۔ وہ بہت پریشان ہوا۔ جب اس نے اوپر درخت پر دیکھا تو سب بندروں نے اس کی ٹوپیاں پہنی ہوئی تھیں۔ پھر اسے ایک ترکیب سوجھی۔ اسے یاد آیا کہ بندر نقل اتارنے میں بہت ہوشیار ہوتے ہیں۔ اس نے اپنی سر پر پہنی ہوئی ٹوپی اتاری اور غصے میں زمین پر پھینک دی۔ یہ دیکھ کر تمام بندروں نے بھی اپنی اپنی ٹوپیاں زمین پر پھینک دیں۔ ٹوپیاں بیچنے والے نے جلدی سے ساری ٹوپیاں اٹھائیں، ٹوکری میں ڈالیں اور خوشی خوشی وہاں سے چلا گیا۔ *سبق: مشکل وقت میں عقل سے کام لینا چاہیے۔*

ایک ایماندار لکڑہارے کی کہانی

Image
ایک گاؤں میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ وہ روز جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر بازار میں بیچتا تھا۔ ایک دن وہ دریا کے کنارے لکڑی کاٹ رہا تھا کہ اس کا کلہاڑا ہاتھ سے نکل کر دریا میں گر گیا۔ وہ بہت پریشان ہوا اور رونے لگا۔ اچانک دریا سے ایک نیک بزرگ نکلا اور اس نے کہا، کیوں رو رہے ہو؟ لکڑہارے نے سارا قصہ سنایا۔ بزرگ دریا میں گیا اور سونے کا ایک کلہاڑا نکال کر لایا اور کہا، کیا یہ تمہارا ہے؟ لکڑہارے نے کہا، نہیں، یہ میرا نہیں ہے۔ پھر بزرگ چاندی کا کلہاڑا لایا، لکڑہارے نے پھر کہا، یہ بھی میرا نہیں ہے۔ تیسری بار بزرگ اس کا اپنا لوہے والا پرانا کلہاڑا لایا تو لکڑہارا خوشی سے بولا، ہاں! یہی میرا کلہاڑا ہے۔ بزرگ اس کی ایمانداری سے بہت خوش ہوا اور اسے تینوں کلہاڑے انعام میں دے دیے۔ سبق: ایمانداری کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔

لالچی بندر اور شہد کی مکھی

Image
ایک جنگل میں ایک لالچی بندر رہتا تھا۔ وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ کھانے کی تلاش میں رہتا تھا۔ ایک دن اس نے ایک درخت پر شہد کا چھتہ دیکھا۔ شہد کو دیکھ کر اس کے منہ میں پانی آ گیا۔ قریب ہی ایک چھوٹی شہد کی مکھی بیٹھی تھی۔ مکھی نے کہا: "بندر بھائی، یہ شہد ہم نے بڑی محنت سے بنایا ہے، اسے مت چھیڑو۔" بندر نے ہنس کر کہا: "چھوٹی سی مکھی، تم میرا کیا بگاڑ لو گی؟ میں تو سارا شہد کھا جاؤں گا۔" بندر نے جیسے ہی ہاتھ چھتے کی طرف بڑھایا، ساری مکھیاں آ گئیں اور اسے کاٹنا شروع کر دیا۔ بندر اپنا منہ پکڑ کر ادھر ادھر بھاگنے لگا۔ پھر مکھی نے پیار سے کہا: "دیکھا، محنت کا پھل بانٹ کر کھانے میں ہی مزہ ہے، چھین کر کھانے میں نہیں۔" بندر کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے کبھی لالچ نہیں کیا۔ *سبق: لالچ بری بلا ہے اور محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔*

چالاک لومڑی اور انگور

Image
ایک جنگل میں ایک لومڑی رہتی تھی۔ وہ بہت بھوکی تھی۔ اسے ایک باغ میں انگور کی بیل نظر آئی۔ اس پر پکے ہوئے میٹھے انگور لگے تھے۔ لومڑی نے انگور کھانے کے لیے چھلانگ لگائی مگر وہ انگوروں تک نہ پہنچ سکی۔ اس نے دوبارہ کوشش کی، تیسری بار کوشش کی، لیکن ہر بار ناکام رہی۔ آخر میں تھک کر وہ بولی، "یہ انگور تو کھٹے ہیں، میں نہیں کھاؤں گی۔" یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلی گئی۔ *سبق: جو چیز نہیں ملتی انسان اس میں عیب نکالتا ہے۔*

جھوٹا چرواہا اور بھیڑیا

Image
  ایک گاؤں میں ایک چرواہا لڑکا رہتا تھا جو روز اپنی بھیڑیں چرانے جاتا تھا۔ ایک دن اسے شرارت سوجھی اور وہ زور زور سے چلانے لگا، بھیڑیا آیا، بھیڑیا آیا، میری مدد کرو۔ گاؤں والے بھاگتے ہوئے آئے تو وہاں بھیڑیا نہیں تھا۔ لڑکا ہنسنے لگا۔ اگلے دن اس نے پھر ایسا ہی کیا۔ گاؤں والے پھر آئے اور اس نے پھر مذاق اڑایا۔ تیسرے دن سچ میں بھیڑیا آ گیا۔ لڑکا بہت چیخا، سچ میں بھیڑیا آ گیا ہے، میری مدد کرو، لیکن اس بار کوئی نہ آیا۔ سب نے سمجھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ بھیڑیے نے اس کی بھیڑ کو نقصان پہنچا دیا۔ سبق: جھوٹ بولنے والے پر سچ بولنے پر بھی کوئی یقین نہیں کرتا۔

ایک لالچی کتے کی کہانی

  ایک لالچی کتے کی کہانی ایک کتا تھا۔ اس کو بھوک لگی تھی۔ اس کو گوشت کا ٹکڑا ملا۔ وہ گوشت لے کر جا رہا تھا۔ راستے میں پل آیا۔ پل کے نیچے پانی تھا۔ کتے نے پانی میں دیکھا۔ اس کو پانی میں دوسرا کتا نظر آیا۔ اس کے منہ میں بھی گوشت تھا۔ کتے نے سوچا، اس کا گوشت بھی لے لیتا ہوں۔ جیسے ہی اس نے منہ کھولا، اس کا گوشت پانی میں گر گیا۔ لالچی کتا بھوکا رہ گیا۔ سبق: لالچ بری بلا ہے۔